سُنیں ! یہ کون آپکو بُلا رہا ہے ؟ کیا یہ کوئی دوست ہ

The listening lamb

ٿڳڦیُوحنا ؔ کی اِنجیل ۱۰ باب ۱ سے ۱۸ آیات کیا آپ نے کبھی کِسی کو آپکا نام لے کر بُلاتے ہُوۓ سُنا ہے ، لیکن آپکو یہ معلوُم نہ ہو پایا ہو کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے ؟ یا یہ کہ آس پاس کے شور و غُل کی وجہ سے آپ بعمُشکل ہی یہ آواز سُن پا رہے ہوں ۔

سُنیں ، کوئی آواز آپکو بُلا رہی ہے ۔ ہاں آپ ! آپ کون ہیں ؟ آپکا نام کیا ہے ؟ آپ کہاں سے آۓ ہیں ؟ آپ کہاں رہتے ہیں ؟ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟

آپ اپنے گاؤں کا نام تو جانتے ہیں ۔ شائد آپ اپنے گاؤں ، شہر یا قصبہ کے عِلاوہ کہیں زیادہ دُور کبھی گئے ہی نہیں ۔ لیکِن آپ جانتے ہیں کہ آپکا گاؤں ایک بڑے مُلک کا ایک حِصہ ہے اور یہ مُلک دیگر مُمالِک کی طرح دُنیا کا حِصہ ہے ۔

بائبل مُقدّس

.... ڪا مکمل متن یا حوال سُنیں ! یہ کون آپکو بُلا رہا ہے ؟ کیا یہ کوئی دوست ہ

تقریباً چھ ہزار سال قبل دُنیا بنی ۔ دُنیا خُدا کی تخلیق ہے ۔ خُدا کی کِتا ب بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اُس نے دُنیا کیسے بنائی اور کیسے اُس نے پہلے آدمی اور عورت کو تخلیق کیا ۔ خُدا نے اِنسان کو اپنی شبہیہ میں تخلیق کیا ۔ تب سے اِنسان پیدا ہوتے رہے ہیں اور تب سے اِنسان مرتے بھی رہے ہیں ۔ لاکھوں بلکہ کرروڑوں پیدا ہوُۓ اور اِس جہانِ فانی سے کُوچ کر گۓ ۔

آپ بھی اپنے ماں باپ کے ہاں پیدا ہُوۓ۔ لیکِن درحقیقت یہ خُدا ہے جِس نے آپ کو تخلیق کِیا ۔ اُسی نے سب کُچھ بنایا ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خالِق نے کِس قدر حیرت انگیز طریقہ سے اُس نے آپ کو اور ہر شے کو بنایا ہے ۔

آپکے ماں باپ نے آپکو ایک نام دِیا ۔ خُدا آپکا نام جانتا ہے ۔ وُہ ہر نام جانتا ہے خواہ وہ کِسی بھی زبان کا ہو ۔ وُہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے ۔ چُونکہ اُس نے ہمیں تخلیق کیا ہے وُہ ہمارے بارے سب کُچھ جانتا ہے ۔ وُہ ہم سے مُحبّت رکھتا ہے کیونکہ وُہی ہمارا مالِک ہے ۔ وُہ ہمارا آسمانی باپ ہے اور وُہ ہمارے دُنیاوی ماں باپ سے کہیں زیادہ ہماری فِکر کرتا ہے ۔

خُدا

خُدا ازل سے ہے ۔ وُہ ابد تک رہے گا ۔ جب اُس نے اپنا سانس ہم میں پھونکا تو ہم بھی ہمیشہ کے لِے ٔجینے کے اہل ہو گے ٔ ۔ نہیں ، ہمارے جِسم نہیں ، کیُونکہ وُہ تو بِلآخِر مر ہی جائیں گے ، بلکہ یہ ہماری روُح ہے جو ہمیشہ تک جیتی رہے گی ۔

کیا آپ سچّے خُدا کو جانتے ہیں ۔ شائد آپ پُوچھیں کہ وُہ کون ہے ؟ وُہ کہاں ہے ؟ کیا آپ حقیقتاً جاننا چاہتے ہیں ؟ ہاں ، یقینناً آپ جاننا چاہیں گے ۔ کہیں دِل کی گہرائی میں آپ ضرور اُسے جاننا چاہتے ہیں ۔

آپ نے تو خُدا کو کبھی نہیں دیکھا ، یا دیکھا ہے ؟ یقینناً نہیں ۔ لیکِن اِس کا مطلِب یہ نہیں کہ اُس کا کہیں وجوُد ہی نہیں۔

صِرف ایک ہی خُدا ہے ۔ کِسی اور خُدا کی گُنجائش ہی نہیں ، کیُونکہ وُہی خُداٗ واحِد ہے جو زمین و آسمان پر ہر سوُ موجود ہے ۔ وُہ ایک ہی وقت ہر جگہ موجوُد ہے ۔

خُدا کا گھر آسمان پر ہے جو اوُپر بُلندِیوں پر ایک نہائت ہی خوُبصوُرت مقام ہے ۔ لیکِن وہ اُن لوگوں کے دِلوں میں بھی رہتا ہے جو اُسکی آواز کے شِنوا ہوتے ہیں ۔

’’ مَیں خُدا کے بارے کیسے سیِکھ سکتا ہوُں ؟ ‘‘ کیا آپکے دِل میں کبھی یہ سوال آیا ہے ؟ خُدا کے پاس اِس سوال کا جواب دینے کا ایک نہائت ہی اعلیٰ منصُوبہ ہے ۔ خُدا نے آسمان سے اپنے اَکلوتے بیٹے یسُوع ؔ کو دُنیا میں بھیجا تاکہ وہ ہم پر ظاہر کر سکے کہ وہ در حقیقت کون ہے اور اُسکی کیا فِطرت ہے ؟ دراصل خُدا اور یسُوع ؔ ایک ہی ہیں ۔ ایک مُعجزہ کی بدولت خُدا کا بیٹا ایک ننھے بچہّ کی طرح پیدا ہُوا اور آدمی کی مانند بڑا ہُوا ۔ اِس کے بعد یسُوع نے ؔ تِین برس تک لوگوں کو اپنے خُدا باپ کی مُحبّت کے بارے تعلیم دی ۔ اُس نے سِکھایا کہ خُدا پاک ہے اور وُہ اپنے سامنے گُناہ کو برداشت نہیں کر سکتا ۔

لیکِن پھِر خُدا نے ہمیں ہمارے گُناہوں سے بچانے کا راستہ بنایا ۔ اُس نے بدکار لوگوں کے ہاتھوں اپنے بیٹے کو مصلُوب ہونے دیا ۔ جِس نے ہماری خاطر اپنی جان قُربان کر دی ، گویا اِس قدر وُہ ہم سے مُحبت رکھتا ہے اور اِس قدر عظیم اُسکی مُحّبت ہے ۔ وُہ پُوری دُنیا کے گُناہوں کے کفّارہ کی قُربانی بنا ، یعنی ہر اُس گُناہ کی قُربانی جو کبھی آپ نے کیا ہو یا کِسی بھی لڑکے ، لڑکی یا کِسی آدمی یا عورت نے کیا ہو ۔

لیکِن کیا یسُوع ؔ مسیح صلیب پر ہی رہے ؟ کیا وُہ اپنی قبر میں ہی رہے ؟ نہیں ، بلکہ تیِن دِنوں کے بعد وُہ ایک فاتح کی طرح قبر میں سے باہر آ گۓ ۔ اِ س کے بعد وُہ دوبارہ واپس آسمان پر چلے گۓ ۔ وہاں وُہ اِنتظار کر رہے ہیں اُس وقت کا جب خُدا اِس دُنیا کا خاتمہ کر دے گا ۔ تب وُہ سب لوگوں کے سچّے اور عادِل مُنصِف ہونگے ۔

کیا آپ کے پاس یُوحناؔ رسُول کی اِنجیل ہے ؟ اِس انجیل کا دس باب پڑہیۓ ۔ یہاں یُوحناؔ رسُول نے وُہ سب بیان کیا ہے جو یسُوعؔ مسیح نے لوگوں سے کہا ۔ جو اُنہوں نے اُس وقت لوگوں سے کہا وُہ آج بھی ہم سب کے لِۓ صادِق ہے ۔ یسُوعؔ نے کہا کہ مَیں اچھا چرواہا ہے جِس نے اپنی بیھڑوں کے لِۓ اپنی جان دے دی ۔ جو اُسکی بیھڑیں ہیں وُہ اُسکی آواز کو پہچانتی ہیں ۔ وُہ اُنہں اُنکا نام لے کر پُکارتا ہے اور وُہ اُسکی آواز سُن کر اُسکے پیچھے چلتی ہیں ۔ وُہ کبھی کِسی غیر کے پیچھے نہیں چلیں گی ۔

وُہ اجنبی ، وُہ دُوسری آواز

وُہ اجنبی کون ہے ؟ وُہ جِس سے ہمیں دوُر بھاگنا ہے ۔ ہاں ، وُہ تو ایک چور ہے ! اُسے بیھڑوں کی قظعاً فِکر نہیں ۔ وُہ جھُوٹا اور فریبی ہے ۔ اُس میں ذرا بھی سچائی نہیں ، وُہ ابلیس ہے ، وُہ ہمارا ازلی دُشمن ہے ، وُہ شیطان ہی تو ہے ۔

لیکِن پہلے وُہ خُد ا کا دُشمن ہے ۔ کبھی وُہ خُدا کے حضُور ایک اچھّا اور نیک فرِشتہ تھا ۔ لیکِن پھِر وہ مغروُر اور گھمنڈی بن گیا اور اُس

نے خُود کو خُدا کے سامنے سر بلند کرنے کی ٹھان لی ۔ وُہ خُدا کے مدِ مُقابِل اُس کے ساتھ جنگ کرنے کے لِۓ تیا ر ہو گیا َ ۔ بُہت سے

فرِشتے بھی اُس کے ساتھ مِل گۓ ۔ لیکن فتح خُدا کی ہُوئی ، کیونکہ وُہ قادرِمُطلِق ہے ۔ چُناچہ خُدا نے ابلیِس اور اُسکے ساتھی فرِشتوں کو آسمان سے نکال باہر کیا ۔ خُدا سے ابلیِس کی دُشمنی کا یہی سبب بنا اور تب سے وُہ خُدا سے نفرت کرنے لگا ۔

چُونکہ ابلیس دوبارہ کبھی خُدا کے قریب نہیں جا سکتا ، وُہ خُدا کی مخلوُق یعنی اِنسانوں کو اپنے غضب کا نِشانہ بناتا ہے ۔ چُونکہ اُس نے گُناہ کیا وُہ دوُسروں کو بھی گُناہ کرنے پر مائل کرتا ہے ۔ لیکن گُناہ دوبارہ کبھی ا ٓسمان میں داخِل نہ ہونے پاۓ گا ۔ ہاں ، البتہ ایک اور جگہ ہے جو خُدا نے شیطان اور اُسکے فرِشتوں کے لِۓ تیار کر رکھی ہے ۔ اور وُہ ہے ، جہنم ۔ جہنم جو کہ ایک نہائت اذیت ناک جگہ ہے ۔ یہ وُہ آگ ہے جو کبھی نہ بھُجے گی ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابلیس اور اُسکے پیروکار ہمیشہ کی سزا بھُگتیں گے ۔ یہ وُہ خوفناک مقام ہے جہاں خُدا کو ہمیں بھیجنا پڑے گا اگر ہم بھی ابلیس کی آواز سُنیں گے اور اُسکے پیچھے چلیں گے ۔ ابلیس نہیں چاہتا کہ ہم جہنم کے بارے سوچیں اور نہ ہی وُہ چاہتا ہے کہ ہم خُدا کے بارے سوچٰیں ۔ اِسی لِۓ وُہ ہماری توجہ خُد ا سے ہٹانا چاہتا ہے ۔ اُس کی کوشِش ہے کہ ہم خُدا کی نہیں بلکہ اُسکی آواز سُنیں ۔

کیا آپ نے خوُد اپنے اندر وُہ دوُسری آواز سُنی ہے ، کِسی غیر کی آواز ؟ کبھی وُہ ہمیں یہ یقین دِلاتی ہے کہ اُسکے پاس ہمیں دینے کے لِۓ بڑی اچھی چیزیں ہیں ۔ کبھی وُہ ہمیں یہ سوچنے پر مائل کرتی ہے کہ  ’’ مَیں دوُسروں سے بہتر ہوُں ، مَیں تو بڑا اہم ہوُں ، مَیں اور مَیں ہی سب سے پہلے ۔ مَیں تو اپنا بدلہ لے کر ہی رہوُں گا ؛ مُجھے اپنے حقوُق کے لِۓ لڑنا ہے ۔ چوری کرنا جائز ہے ، بس پکڑے نہیں جانا چاہِۓ ۔ ہر کوئی جھوُٹ بول رہا ، مَیں کیوں نہ بولوُں ؟ دِل میں بُرے خیال لانا بھی کونسی بڑی بات ہے ۔ کِسی کو کیا خبر کہ مَیں کیا سوچ رہا ہوُں ۔ گندی باتیں ، ہنسی مُزاق اور دِل بہلانے کے لِۓ جائز ہی تو ہیں ۔‘‘ یہ سب آوازیں شیطان ہی کی ہیں ۔ وُہ جھُوٹا ہے اِسی

وُہ جھُوٹا ہے اِسی لِۓ وُہ ہمیں بھی جھُوٹا بنانا چاہتا ہے ۔ وُہ چور ہے اِس لِۓ وُہ ہمیں بھی چوری چکاری پر مائل کرتا ہے ۔ وُہ قاتِل ہے اِس لِۓ وُہ ہمیں ایک دوُسرے سے نفرت کرنا سِکھاتا ہے ۔

جب آپ یہ آواز سُنتے ہیں تو کیسا محسُوس کرتے ہیں ؟ کیا یہ آواز آپکو اندر ہی اندر ۱چھی نہیں لگتی ؟ نہیں ، بلکہ یہ اندر ہی اندر آپکو نا خوُش اور بد دِل کر دیتی ہے ۔ کِیونکہ یہ آپ کو اپنی اصل شخصیّت چھُپانے پر مجبوُر کرتی ہے ۔ یہی شیطان کی خصلت ہے ۔ وُہ سب کُچھ چوری چھُپے اندھیرے میں کرنا چاہتا ہے ۔

یسُوعؔ ، چرواہے کی آواز

کیا آپ یسُوع ؔ کو جانتے ہیں ، یسُوع ؔ جو کہ اچھا چرواہا ہے ؟ کیا آپ اُسکی بھیڑ بننا چاہتے ہیں ؟ کیا آپ اُسکی آواز سے آشنا ہونا چا ہتے ہیں ؟

ہاں کیوں نہیں ؟ آپ اُسکی آواز سے آشنا ہو سکتے ہیں ؟ لیکِن پہلے آپکو اُس دوُسری آواز کو سُننا ترک کرنا ہو گا ۔

اب جب آپ خاموش ہونگے ، آپ یسُوعؔ کی حلیمی بھری یہ آواز سُنیں گے کہ اپنی پوُری زِندگی میری نذر کر دو ۔ آپ اُسے یہ کہتے ہوُۓ سُنیں گے کہ اپنے گُناہوں پر نادِم ہوں اور اُن سے توبہ کریں ۔

شائد کبھی تنہائی میں آپ نے سوچا ہو ، ’’ مَیں اپنے تمام مسائل اور سارے بوجھوں کا کیا کروُں ؟ کاش مَیں بھی ایک اچھّا اور نیک اِنسان بن سکوُں ۔ کاش مَیرے ایسے حالات ہوں کہ مَیں کبھی بھوُک اور بیماری کا شِکار نہ ہوُں ۔ مرنے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوگا ؟ ہو سکتا ہے ایسے ہی کئی اور خیالات آپکے دِل میں آتے ہوں ۔ یہی باتیں اور یہی خیال دراصل یسُوعؔ کی آواز ہیں جو آپکو بُلا رہی ہے ۔

کیا آپ کبھی کبھی افسُردہ ہوتے ہیں لیکن آپکو یہ بھی معلوُم نہیں ہوتا کہ آپ کِیوں افسُردہ ہیں ؟ یا پھِر اکیلا نہ ہونے کے باوجوُد خُود کو اکیلا محسُوس کرتے ہیں ۔ عین مُمکِن ہے کہ حقیقت میں آپ اپنے اندر خُدا کی کمی محسُوس کر رہے ہوں ، وُہ خُدا جِس نے آپ کو پیدا کیا ہے اور آپ سے پیار کرتا ہے ۔ وُہ اچھا چرواہا ہے جو اپنی کھوئی ہوئی بیھڑوں کی تلاش میں ہے ۔ وُہ مُسلسل آپکو آوازیں دے رہا ہے اور آپکی جُستجو میں ہے ۔

جب آپ اِس چرواہے کی آواز سُنیں ، اُسے جواب دیں ۔ اُسے بتائیں کہ آپ اپنے گُناہوں پر شرمِندہ ہیں ۔ اُسے بتائیں کہ آپ کیسا محسُوس کر رہے ہیں اور اُسے کہیں کہ وُہ آپ کو نجات بخشے ، یعنی اُس سے دُعا مانگیں ۔

کیا آپ نے کبھی آسمانی خُدا سے دُعا مانگی ہے ؟ نہیں کی تو اب ایسا کر یں ۔ وُہ آپ کے دِل کی بات کو سُنے گا اور سمجھے گا ۔ جِس سکوُن اور اِطمِینان کی آپکو تلاش ہے ، وُہ آپکو اُسی سے مِلے گا ۔

کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ بھی اُسکی ایک معصوُم سی بیھڑ کی طرح اُسکی آواز سُنیں ؟ وُہ تو آپ کا دوست بننا چاہتا ہے ۔ اُسے اپنی زِندگی میں آنے دیں ۔ وُہ آپکے سارے گُناہوں کا بوجھ ہٹا دے گا ۔ تب آپکو حقیقی خُوشی حاصِل ہو گی ۔ اُسکی طرح آپ بھی سب سے پیار کرنے لگیں گے اور ہر ایک کے ساتھ مُحبّت او ر رحمدِلی سے پیش آئیں گے ۔

اگرچہ مسیحی ہونے کے ناطے لوگ آپ کا مُزاق اُڑائیں گے لیکِن آپکو اِس بات کا یقین ہونا چاہِۓ کہ یسوُع ؔ آپکی حِفاظت کرے گا ۔ اور اگرچہ وُہ اجنبی آواز ، وُہ ابلیس کی آواز آپکو دوبارہ آزمائش میں ڈالنے کی کوشِش کرے گی ، آپکو اِس بات کا یقین ہونا چایِۓ کہ یسُوعؔ آپکو غالِب آنے میں مدد دے گا ۔

جب آپ اِس چرواہے کی مُحّبت بھری باہوں میں محفُوظ ہونگے تو آخِر میں وُہ آپکو اُس خُوبصُورت ، عجیب و غریب اور ابدی خُوشیوں سے بھرے آسمانی گھر میں لے جاۓ گا جہاں آپ خُدا کی حضُوری میں ہمیشہ ہمیشہ کے لِۓ رہیں گے ۔

ہم سے رابطہ کِجِیے

ٹریکٹس کا آرڈر دین

آپکی روُح کی جنگ

A shield and sword

فرانس  کے  بڑے  شہر  پیرس  میں  جنرل  نپولین  کی  یاد  میں  اُس  کا   ایک  عالی  شان   مُجسمہ  نصب  کِیا  گیا  ہے  ۔   اٹھارویں  صدی  کے  اختتام  اور  اُنیسویں  صدی  کے  آغاز  میں  وُہ  یورپ   میں  دہشت  اور  خوف  کی  علامت  بن  چُکا  تھا  ۔  اُسکی   مشہوُور ِ  زمانہ  فتوُحات  اِس  حد  تک  پُہنچ  گئیں  کہ  سِواۓ  اِنگلستان  کے  تقریباً  تمام  یورپ 

اُسکے  ماتحت ہو  چُکا تھا  ۔   یہ  بُلند  نظر  جنرل  ساری  دُنیا  کو  اپنے  زیرِ  اثر  لانے  کے  خواب  دیکھ  رہا  تھا  ۔ 

پیرس ؔ  میں  ’’  محراب  الفتوُحات  ‘‘   نامی  ایک  یادگار  ہے  جِس  پر  اُن  تمام  جنگوں  اور  فتوُحات  کی  فہرست   درج ہے  جو  نپولین ؔ  نے  اپنی  زِندگی  میں  حاصِل  کیں  ۔   تاہم  اِس  فہرست  میں  سے  ایک  معرکے  کا   ذِکر  نہیں  اور  وُہ  ہے  جنگِ  واٹرلُوؔ  ۔  کیوں  ؟  اِس  لِۓ  کیونکہ  نپولین ؔ  یہ  جنگ  ہار  گیا  تھا  ۔    حالات  بدل  چُکے  تھے  ۔  اُسکے  تمام  منصوُبے  خاک  میں  مِل  گۓ  کیونکہ  وُہ  اپنی  زِندگی  کا  سب  سے  اہم  معرکہ  ہار  گیا  تھا  ۔  اِس  کے  بعد  اُسے  جلاوطن  کر  دِیا  گیا   اور  وُہ    ایک  نہائت  ہی  ناپسندیدہ  شخص  کی  طرح  مرا  ۔

.... ڪا مکمل متن یا حوال آپکی روُح کی جنگ

 

نپولین ؔ  کو   ساری  دُنیا   فتح  کر  کے  بھی  کیا  حاصِل  ہوتا  اگر  آخِر  میں  واٹرلُو ؔ  پر  اُسے   اپنا  سب  کُچھ  ہارنا  ہی  تھا  ۔   اُسکی  شان  و  شوکت  ،  شُہرت   اور  مال  و  دولت  سب  گھڑی  بھر  میں  جاتے  رہے  ۔  یہ  عِبرتناک  شکست   اُسکے  ماضی  کی  تمام  فتوُحات  پر  بھاری  ثابت  ہوُئی  ۔  یہ  معرکہ  ہارنے  کی  وجہ  سے  وُہ  اپنا  کُچھ  سب  ہار  گیا  ۔ 

 

ہر  ذِمہ  دار  روُح   زندگی  میں  بڑے  بڑے  مُشکِل  اِمتحانوں  اور  مرحلوں  میں  سے  گُزرتی  ہے  ۔  اِن  اِمتحانوں  اور  مرحلوں  کے  نتائج  بڑے  ہی  گمبھیر  اور  بڑی  ہی  اہمیت  کے  حامِل  ہوتے  ہیں  ۔  واٹڑلُو  کی  شکست  نپولینؔ  کے  لِۓ  اِس  دُنیاوی  زِندگی  میں ہی  بڑی  ذِلت  و  رُسوائی  لانے  کا  سبب  بن  گئی  ۔  آپکی  روُح  کی  جنگ  کی  شکست  آپکے  لِۓ  ابدی  رنج  و  الم   اور  اذیت  کا  باعث  بن  سکتی  ہے  ۔   کیا  آپ  نے  کبھی  خُود  مرکزیت  کی  شکار  مسیحؔ  سے  الگ  زِندگی  کے  نتائج  پر  غور  کِیا  ہے  ؟ 

 

 

کیا  آپ  نے  کبھی  سوچا  ہے  کہ  کہیں  آپ  بھی  اپنی  زِندگی  کی  جنگ   تو  ہارنے  نہیں  جا رہے  ہیں  ؟  یعنی  زِندگی  اور  موت  کی  جنگ  ؟  آسمان  اور  دوزخ  کی  جنگ  ۔  خُودی   اِنکاری  اور  خُود  پرستی  کی  جنگ  ۔  آپکی  رُوح  اور  ابلیسؔ  کی  جنگ  ۔   یسوُعؔ  نے  فرمایا  ۔ 

 

ــ’’  اور  آدمی  اگر  ساری  دُنیا  کو  حاصِل  کرے  اور  اپنی  جان  کا  نُقصان  اُٹھاۓ  تو  اُسے  کیا  فائدہ  ہو  گا  ؟  (مرقس  ؔ  ۸   باب  ۳۶   آئت  ) 

 

اِس  فِطری  دُنیا  کا  بُہت  کم  یا  بُہت  زیادہ  مال  ہمارے  پاس  ہو  اور  ہم  اپنی  روُح  کو  کھو  دیں  تو  یہ کیسی  ہی  المناک   بات  ہو گی  ۔  ہماری  ابدی  تقدیر  کا  فیصلہ  ہو  جاۓ  گا  ۔  بُہت  سے  لوگوں  کو  اِس  بات  کا  احساس  نہیں  کہ  ہمیں  ایک  سخت  اور  کٹھن  روُحانی  جنگ  کا  سامنا  ہے  ۔  ابلیسؔ  اور  دُنیاوی  آسائشوں  نے  اُنکی  سمجھ  کو  موقُۡوف  کر  کے  رکھ  دیا  ہے   اور  وُہ   گُناہ  کے  خِلاف   اِس  جنگ  کی  سنگینی  سے  غافل  ہیں  ۔  بائبل  مُقدس  میں  لِکھا  ہے    ’’  اے  سونے  والے  جاگ  اور  مُردوں  میں  سے  جی  اُٹھ  ،  تو  مسیح ؔ  کا  نُور  تُجھ  پر  چمکے  گا  ۔  ‘‘   (  اِفسیوںؔ  ۵      ۱۴   )

  گُناہ  اور  ابلیس  ؔ   کے  بندھنوں  کو  اُتار  پھینکیں  ۔  ہمیں  اِس  جنگ  کو   ہر  قیمت  پر  جیتنا  ہے  ۔   ہم  فِطری  و  جسمانی   موت  سے  تو  بھاگ  نہیں  سکتے  لیکِن  ابدی  موت  سے  خُود  کو  بچا  سکتے  ہیں  ۔  ’’  پھِر  موت   اور  عالمِ  ارواح  آگ  کی  جھیل  میں  ڈالے  گۓ  ۔  ‘‘  (  مُکاشفہ  ۲۰      ۱۴   )  ’’  جہاں  اُنکا  کِیڑا  نہیں  مرتا  اور  آگ   نہیں  بُجھتی  ۔  ‘‘  (  مرقس  ؔ  ۹      ۴۴    )  اگر  آپ  اپنی  روُح  کی   نجات  کی  جنگ   ہار  جاتے  ہیں  تو  پھِر  سامنے  صِرف  ابدی  بربادی  اور  جہنم  کی  اذیت  ہے  ۔  

 

کیا  آپ  نے  کبھی  سوچا  ہے  کہ  آپ کے  اور  آپکی   موت  کے  درمیان  صِرف  ایک  قدم  کا   فاصلہ  ہے  ؟  کیا  آپ  وقت  کی  اِس  دہلیز  کو  پار  کر  کے  ابدیت  میں  داخِل  ہونے  کے  لِۓ  تیار  ہیں  ؟  وُہ  فتح  حاصِل  کرنے  کے  لِۓ  جو  ہمیں  ہمارے  آسمانی  گھر  تک  لے  جاۓ  گی  آپکو  مسیحؔ  کے  پاس  آنا  ہوگا  جو   ’’   گُنہگاروں  کو   نجات  دینے  کے  لِۓ  دُنیا  میں  آیا   ۔  ‘‘  خُدا  سب  آدمیوں  کو  ہر  جگہ  حُکم  دیتا  ہے  کہ  توبہ  کریں  ‘‘ َ  ۔  ( ۱عمال  ۱۷       ۳۰   )  ابھی  !  کل  نہیں  یا  پھِر  کِسی  اور   مُناسب  وقت  ۔  ’’  دیکھو   اب  قبوُلیت  کا

 

وقت   ہے  ۔  دیکھو  یہ  نجات  کا  دِن  ہے  ‘‘   (  ۲   کرنتھیوں  ۶      ۲    )  اگر  ابھی  تک  آپکے  دِل  میں  مسیح  ؔ نہیں  ،  اگر  آپکا  ماضی  آپکو  ملامت  کرتا  ہے  ،  اگر  آپ  نے  ابھی  تک  نئے  سِرے  سے  پیدا  ہونے  کا  تجربہ       حاصِل  نہیں  کِیا   (  یوُحناؔ  ۳      ۳    )   تو   بے  فِکر  ہو  کر   بیٹھے  نہ  رہیں  ،  توبہ  کریں  ،  جِس  حال   میں  بھی   ہیں  جیسے  بھی  ہیں  مسیحؔ  کے  پاس  آئیں  ۔   ابھی  جبکہ  وُہ  آپ  کے  دِل   کے  دروازے  پر  کھڑا  دستک  دے  رہا   ہے  ۔  اُس  نے  کہا  ،  ’’  اگر  کوئی  میری  آواز  سُن  کر  دروازہ  کھولے  گا  تو   مَیں  اُس  کے  پاس  اندر  جا  کر 

اُس  کے  ساتھ   کھانا  کھاؤں  گا  اور  وُہ  میرے  ساتھ  ‘‘   (  مُکا شفہ  ۳      ۲۰   )  آپ  پوُچھیں  گے  ،  ’’  کیا  کوئی  گُنہگار  واقعی  بچایا  جا  سکتا  ہے  ؟  ‘‘   ہاں  !  اِیمان  رکھتے  ہوُۓ  اپنے  پوُرے  دِل  کے  ساتھ  اُس  کے  پاس  آئیں  اور  اُسے  اپنا  شخصی  نجات  دہیندہ  کے  طور  پر  قبُول  کریں  ؛  اپنے  گُناہوں   سے  توبہ  کریں   اور  پاک  روُح  کی  آواز   کے  شِنوا  ہوں  ۔  تبھی  آپ  اپنی  روُح  کی  جنگ  جیت  سکیں  گے  ۔  یوُں  آپ  نہ  صِرف  اِس  زِندگی  میں  اِطمینان  اور  خوُشی  حاصِل  کریں  گے  بلکہ  اپنے  نجات  دہِندہ  کے  ساتھ  ابدی  حیات  کی  خُوشیوں   اور   اُس کے  جلال  میں  شامِل  ہوں  گے  ۔  

 

ہزاروں  سال  پہلے  حِزقی  ایل ؔ  نبی  نے  فرمایا    ’’  لیکِن  اگر شریر  اپنے  تمام  گُناہوں  سے  جو  اُس   نے  کِۓ  ہیں  باز  آۓ  اور  میرے  سب  آئین  پر  چل  کر  جو  جائز  اور  روا  ہیں  کر  تو  وُہ  یقیناً  زِندہ  رہے  گا  ۔  وُہ  نہ  مرے  گا  ۔  ‘‘   (  حِزقی  ایل   ۱۸      ۲۱   ) 

 

اگر  آپ  صِرف   اِس  گُنہگا ر  دُنیا  کی  لُزتیں  حاصِل  کرنا  چاہتے  ہیں  تو  واٹر  لوُؔ  میں   نپولینؔ   کی   شکست  کی  طرح  آپ  بھی  آخِر  میں  اپنی  روُح  کی  شکست  سے  دوچار  ہوں  گے  ۔   بغیر   نجات  دہِندہ  کے  آپ  اُس  ڈوُبتے  ہوُے  شخص  کی  طرح  ہیں  جِس  کا  کوئی  یار  و  مدد گار  نہیں  اور  جو   یقیناً  برباد ی  کی  راہ  پر  گامزن  ہے      ۔  کیا  ہی  بدنصیبی  کی  بات  ہوگی  کہ  کوئی  شخص  آخِر  میں  ہمیشہ  کی  زِندگی  کی  جنگ  ہار  جاۓ  اور  دوذخ  کا  سزاوار  ٹھہرے  ۔    پس  بغیر   مذید   دیر  کِے ٔ   مسیحؔ  کا  ہاتھ  تھام  لیں  جو  کہ  آپکی  زِندگی   کا  سب  سے  بڑا   ضامن  ہے  ۔  وُہی  آپ  کو  ہر  طرح  سے  محفوُظ  رکھے  گا  ۔  (  عبرانیوں  ۷    باب  ۲۵   آئت )  ۔  تصًور کریں  ،   آسمان  پر  ابدیت  !   پِھرآپ  بھی   آخری  معرکے  کے  بارے  پولوُس ؔ  رسوُل  کی  طرح  کہہ  سکیں  گے   ’’  خُدا  کا  شُکر  ہے  جو  ہمارے  خُداوند  یسوُع ؔ  مسیح  کے  وسیلہ  سے  ہم کو  فتح  بخستا  ہے  ۔‘‘ 

 

اے  روُح   !  تیرے  پاس  فتح  یا  شکست  کا  اِنتخاب  ہے  ،  آسمان  کا  یا   جہنم  کا  ،  زِندہ   خُدا  کا  یا  ابلیس ؔ  کا  ؛  ہمیشہ  کی  خُوشیوں  بھری  جلالی  حیات  یا  پِھر  کبھی  نہ  ختم  ہونے  والے  دُکھ  اور  اذیتیں  ۔      ’’  میںَ  نے   زِندگی  اور  موت  کو  اور   برکت  اور  لعنت  کو  تیرے  آگے  رکھا   ہے  پس   توُ  زِندگی  کو   اِختیار  کر   کہ  تُو  بھی  جیتا  رہے  اور  تیری  اولاد   بھی  ۔  (  اِستشنا   ۳۰    باب  ۱۹   آئت  )  مسیحؔ  کا  اِنتخاب  کریں  ،  آج  ہی  ۔               

ہم سے رابطہ کِجِیے

ٹریکٹس کا آرڈر دین

درُست فیصلے کرنے کی للکار

زِندگی  کئی  بار  اِنسان  کو  ایسے  مقام  پر  لے  آتی  ہے  جہاں  اُسے   کوئی  بڑا  اہم  فیصلہ  کرنا  ہوتا  ہے  ۔  حقیقت  تو  یہ  ہے  کہ  ہمیں  ہر  روز   کئی  فیصلے  کرنا  پڑتے  ہیں  ۔  کُچھ  فیصلے  زیادہ  سوچ  و  بچار  کے  بغیر  ہی  کر  لِۓ  جاتے  ہیں  ۔  تاہم  کُچھ  فیصلوں  کے  لِے  بُہت  غور  و  فِکر  درکار  ہوتا  ہے  اور   بڑے  فیصلے  کرنے  میں  بڑا  احتیاط  برتا  جاتا  ہے  ۔  اب  سوال  یہ  اُٹھتا  ہے  کہ   کوئی  فیصلہ  کرتے  وقت  کِس  بات  کو  سب  سے  زیادہ  اہم  سمجھا  جانا  چاہۓ  ؟

 

خُدا  نے  جب  اِنسان  کو  خلق  کیا  تو  اُسے  حقِ  اِنتخاب   بھی  دِیا  ۔  ہم  اِس  ذِمہ داری  سے  روُپوشی  اِختیار  نہیں  کر  سکتے  اور  نہ  ہی  اپنے  اِنتخاب  اور  فیصلوں  کے  نتائج  سے  خوُد  کو  بری الزمہ  قرار  دے  سکتے  ہیں  کیوُنکہ  بُہت  سے  نتائج  دائمی  و  ابدی  اثرات  پیدا  کرنے  کا  باعث  بنتے  ہیں  ۔

 

.... ڪا مکمل متن یا حوال درُست فیصلے کرنے کی للکار

آئیے  ہم   بائبل  کے  کُچھ  کِرداروں  پر  نظر  کریں  جِن  میں  سے  کُچھ  نے  اچھے  اور  کُچھ  نے  بُرے  اِنتخاب  اور  فیصلے  کِۓ  ۔   مُوسیٰ ؔ  مردِ  خُدا  نے   ’’  گُناہ  کا  چند  روزہ  لُطف  اُٹھانے  کی  نِسبت  خُدا  کی  اُمت  کے  ساتھ  بد  سلوُکی  برداشت  کرنا  زیادہ  پسند  کِیا  ۔  ‘‘   (  عبرانیوں  ۱۱   باب  ۲۵   آئت  )

 

اُس  نے  اُس  اِنعام  پر  نظر  رکھی  جو  اِ س  زِندگی  میں   نہیں  بلکہ  آئندہ  کی  زِندگی  میں  حاصِل  ہونا  ہے  ۔  مسیِحی  اِیمانداروں  کی  صُحبت  یقیناً  دانائی  پر  مبنی  اِنتخاب  ہے  ۔  طُوفان  سے  پہلے    ’’  خُدا   کے  بیٹوں  نے  آدمی  کی  بیٹیِوں  کو  دیکھا  کہ  وُہ  خُوبصوُرت  ہیں  اور  جِن  کو  اُنہوں  نے  چُنا  اُن  سے  بیاہ  کر  لِیا  ۔ ‘‘  ( پیدائش  ۶      ۲  )    اُنہوں  نےاپنی  نفسانی  خواہشوں  پر  مبنی  اِنتخاب  کِیا  جو  بعد  میں  اُنکے  لِۓ  بربادی  کا  سبب  بنا  ۔

 

’’ سو   لُوط ؔ  نے  یردن ؔ  کی  ساری  ترائی  کو  اپنے  لِۓ  چُن  لیا  ۔  ۔  ۔  اور  سدوُم ؔ  کی  طرف  اپنا  ڈیرا  لگایا  ۔  ( پیدائش  ۱۳      ۱ا  ،  ۱۲  )   زمیِن  زرخیز  تھی  اور  لوُطؔ   معُاشی  طور  پر  بڑا  خُوشخال  ہو  گیا  ۔  لیکِن  جب  سدوُؔم  برباد  کِیا  گیا  تو  لوُطؔ  کا  سارا  مال  و  اسباب  بھی  غارت  ہو  گیا  ۔

 

بحیثیت ِ  ایک  نوجوان  ،  یوُسفؔ   نے  اِخلاقی  طور  پر  کامِل  اور  دیانتدار  رہنے  کا   ا ِنتخاب  کِیا  اور   مِصر ؔ  کی  سلطنت  میں  اُسے  اعلیٰ  تریِن  اعزازوں  سے  نوازا  گیا  ۔   (  پیدائش  ۴۱      ۴۱ )

 

خُدا  کے  خادم  یشوُعؔ  نے  بنی  اِسرائیل  کو  دو  ٹوک  الفاظ  میں  خبردار  کِیا  کہ  ،  ’’  آج  ہی  تُم  اُسے  جِسکی   پرستِش  کرو  گے  چُن  لو  (   یشوُعؔ   ۲۴      ۱۵   ،  ۱۶   )   اب  رہی  میری  اور   میرے  گھرانے  کی  بات   سو  ہم  تو  خُداوند  کی  پرستِش  کریں  گے  ۔  ‘‘  تب  لوگوں  نے  جواب  دِیا  ،   کہ  خُدا  نہ  کرے  کہ  ہم  خُداوند  کو  چھوڑ  کر  اور  معبوُدوں  کی  پرستِش  کریں  ۔ ‘‘   جب  تک  بنی  اِسرائیل   خُداوند  کے  ساتھ  وفادار  رہے  وُہ  ترقی  و  خو شخالی  کی  زِندگیاں  گُزارتے  رہے  ۔

 

ایلِیاہؔ  نبی  کے  وقت  میں  لوگ  وُہ  سارے  عظیم  کام جو  خُدا  نے  اُنکے  لِۓ  کِۓ  تھے  بھوُل  گۓ  اور  بُہت  سے  لوگ  بعلؔ   دیوتا   کی  پُوجا  کرنے

 

لگے  ۔  یہ  بات  خُداوند   کے  نزدیک  نہائت  ہی  ناپسندیدہ    اور  افسوسناک  تھی  ۔  اِس  اہم  صوُرتِحال  میں  خُداوند  نے  ایلِیاہ ؔ  کو   اِستعمال  کِیا  تاکہ  اُسکے  ذریعہ   وُہ  اپنی  قُوت  اور  قُدرت  کا  اِظہار  کر  سکے  ۔  کوہِ  کرمِلؔ  پر  اُس  نے  آسمان  سے  آگ  کے  لِۓ  پُکارا  اور  آسمان  سے  آگ  نازِل  ہوُئی  جِس  نے  اُسکی  قُربانی  کو  بھسم  کر  دِیا  ۔  اِس  طرح  سے  اُس  نے  ثابِت  کِیا  کہ  خُداوند  ہی  سچّا  خُدا  ہے  ۔  پھِر  اُس  نے  لوگوں  سے  پوُچھا  ،  ’’  تُم کب  تک  دو  خیالوں  میں  ڈانواں  ڈول  رہو  گے  ؟  اگر خُداوند  ہی  خُدا  ہے  تو  اُسکے  پیرو  ہو  جاؤ  اور  اگر  بعل ؔ  ہے   تو  اُسکی  پیروی  کرو  ۔  ‘‘  جب  لوگوں  نے  دیکھا  کہ  آسمان  سے   آگ  نازل   ہوئی  ہے  تو  وہ    ’’  مُنہ  کے  بل  گِرے  اور  کہنے  لگے  ،  خُداوند  ،  وُہی  خُدا ہے  !   خُداوند  ،  وُہی  خُدا ہے  !  پہلا  سلاطِین  ۱۸   باب  ۔

 

دانی ایلؔ  ،   وُہ  نوجوان   جِس نے  اپنے  دِل  میں   نیک  عہد  کِیا  کہ   وُہ  بادشاہ  کے  گوشتیِن اور  مُرّغن  کھانوں  سے  اور  اُسکی  مے َ  سے   خُود  کو    ناپاک  نہیں  کرے  گا  ۔  (  دانی ایل ؔ  ۱      ۸   )   نتِجتاً   ،  وُہ   اور  اُسکے  تین  دوست  جنہوں  نے  اِس  بات  میں   ا ُ س  کا  ساتھ   دِیا  ،  بادشاہ  اور  خُدا  کی  نظر  میں  مقبُول  ٹھہرے  ۔  اگر  اُنہوں  نے  یہ  فیصلہ  اور  یہ  اِنتخاب  نہ  کِیا  ہوتا  تو  دانی ایلؔ  کی  شیروں  کی  ماند  میں  پھینکے  جانے  اور  اُسکے  تین  دوستوں  کے  آگ  میں  ڈالے  جانے  کی  سبق  آموز  اِمثال  بائبل  میں  درج  نہ  کی  جاتیں  ۔

 

یسوُعؔ  نے  ایک  آدمی  کے  بارے   جِسکے  دو  بیٹے  تھے  تمثیل  بیان  کی   ۔  دونوں  میں سے  ایک  بٰٹے  نے  باپ  سے    وِراثت  کا   اپنا  حِصّہ  طلب  کیا   اور  دوُردراز  مُلک  (  گُناہ  کی   سر زمین  )  کو  سدھا ر  گیا  ۔  اُس  کا  فیصلہ  اور  اِنتخاب  درُست  نہ  تھا  ۔  جب  وُہ  اپنا  سارا  مال  و  اسباب  لُٹا  چُکا  تو  اُسے  احساس  ہُوا  کہ  اُس  سے  کِتنی  بڑی  غلطی  سر زد   ہوُئی  ہے  ۔  اُس  نے  اپنے  باپ  کے  گھر  واپس  جانے  کا   فیصلہ  کِیا  ۔  تصّور  کریں  کہ   باپ  اور  بیٹے  کے  مِلاپ  کی  وُہ  گھڑی  کِس  قدر  خُوبصورت  ہو گی  ۔  (  لوُقا  ۱۵    باب  ۱۱   سے  ۳۲   آیات  )

 

یسوُعؔ  کو  گرِفتار  کر  کے  پلاطُس ؔ  کے  سامنے  پیش  کِیا  گیا  ۔  یہوُدِیوں  نے  چِلاّ  چِلاّ  کر  کہا  ۔  ’’  اگر  تُو  اُسے  چھوڑ  دیتا  ہے  تو  قیصرؔ  کا  خیر  خواہ  نہیں  ۔  ‘‘   پیلاطُسؔ  نے  اپنے  سا منے  درپیش  صُورتِحال  پر  غور  کیا  ۔  اُس  نے  قیصرؔ   (   دُنیاوی  مصلحتیں  )   اور  پھِر  جلال  کا  خُداوند  جو  اُسکے  سامنے  کھڑا  تھا  کے  بارے  سوچا  ۔  آخِر  اُس  نے  اپنا   فیصلہ  اور  اِنتخاب  کِیا    اور  یسوُع ؔ  کو  مصلوُب  ہونے  کے  لِۓ  اُنکے  حوالے  کر  دِیا  ۔   (  یوُحناؔ   ۱۹    باب  )

 

دُنیا   اور  اِسکی  آسائشوں  کا  اِنتخاب  آخِر کار  بربادی  ہی  کا  باعث  بنے  گا  ۔  (  ۲   پطرس   ۳    با ب   ۱۰   سے  ۱۱    آیا ت)  دُنیا  اور  اِسکی  آسائشوں  کی  جُستجو  کی  بجاۓ    خُدا  کے  بچوّں  کا  ساتھ  دینا  دانائی  پر  مبنی  اِنتخاب  ہے  ۔  مسیح  کی  صُحبت  میں  وقت  سرف  کرنا  ایک  عاقِل  دوست  جو  زِندگی کے  ہر   فیصلے  میں   ہماری   راہنُمائی  میں   کرتا  ہے  ،   کے  ساتھ   رہنے  کے  مُترادف  ہے   ۔

 

عزیز   قارئین  اور  دوستو  ،  کیا  آپ  نے  مسیح  کی  پیروی  کرنے  کا   فیصلہ  کر  لِیا  ہے  ؟   کیا  آپ  نے  اُسے  اپنی  زِندگی  میں  سب  سے  زیادہ  عزیز  بنا  لیا  ہے  ؟   کیا  اُسکے  بتاۓ  ہوُۓ  زِندگی  کے  اصوُلوں  کو  آپ  نے  اپنا  لِیا  ہے  ؟  کیا  آپ  نے  اپنی  زِندگی  اُسکے  سپرد کر  دی  ہے   اور  اُسکے  سامنے  اپنے  گُناہوں  کا  اِقرار  کرنے  اور  اُن  سے  کِنارا کش  ہونے  کا  اِرادہ  کر  لِیا  ہے  ؟   کیا  آپکے  لِۓ  اُسکا  کلام   بیش  قیمتی    اور  ہر  کِسی  دوُسری  کِتاب  سے  زیادہ  پُرتاثیر  ہے  ؟  کیا  آپ  نے  اپنے  گھر  میں  یا  کمرے  میں   یا  کہیں  اور  کوئی  ایسی  جگہ  الگ  کر  رکھی   ہے  جہاں   آپ  اپنے  خُداوند  کے  سامنے  دُعا  یا  اپنی  زِندگی  پر  گہرے  غوروفِکر  کی  غرض  سے    اور  اُسکے  ساتھ  گُفتگوُ   کرنے  کے  لِۓ  جا  سکیں  ۔    اگر  آپ  نے  اپنی  زِندگی  کو  خُدا  کی  نذر  کر دِیا  ہے   اور  اُسے  اپنا  مالِک  بنا  لِیا  ہے  تو  آپ  ایک  نہائت  ہی  مُبارک  زِندگی  گُزار  رہے

 

ہیں  ۔   یہ  آسمانی  بادشاہی  کا  پیش منظر  ہے  اور   ہر  روز  صحیح  اور  راست  فیصلے  بلآخِر  ہمیں  ابدی  خوُشیوں  کی  سر زمِین  پر  لے  جائیں  گے  ۔  ضُدا آپکو  برکت  دے

ہم سے رابطہ کِجِیے

ٹریکٹس کا آرڈر دین