سُنیں ! یہ کون آپکو بُلا رہا ہے ؟ کیا یہ کوئی دوست ہ

The listening lamb

ٿڳڦیُوحنا ؔ کی اِنجیل ۱۰ باب ۱ سے ۱۸ آیات کیا آپ نے کبھی کِسی کو آپکا نام لے کر بُلاتے ہُوۓ سُنا ہے ، لیکن آپکو یہ معلوُم نہ ہو پایا ہو کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے ؟ یا یہ کہ آس پاس کے شور و غُل کی وجہ سے آپ بعمُشکل ہی یہ آواز سُن پا رہے ہوں ۔

سُنیں ، کوئی آواز آپکو بُلا رہی ہے ۔ ہاں آپ ! آپ کون ہیں ؟ آپکا نام کیا ہے ؟ آپ کہاں سے آۓ ہیں ؟ آپ کہاں رہتے ہیں ؟ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟

آپ اپنے گاؤں کا نام تو جانتے ہیں ۔ شائد آپ اپنے گاؤں ، شہر یا قصبہ کے عِلاوہ کہیں زیادہ دُور کبھی گئے ہی نہیں ۔ لیکِن آپ جانتے ہیں کہ آپکا گاؤں ایک بڑے مُلک کا ایک حِصہ ہے اور یہ مُلک دیگر مُمالِک کی طرح دُنیا کا حِصہ ہے ۔

بائبل مُقدّس

تقریباً چھ ہزار سال قبل دُنیا بنی ۔ دُنیا خُدا کی تخلیق ہے ۔ خُدا کی کِتا ب بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اُس نے دُنیا کیسے بنائی اور کیسے اُس نے پہلے آدمی اور عورت کو تخلیق کیا ۔ خُدا نے اِنسان کو اپنی شبہیہ میں تخلیق کیا ۔ تب سے اِنسان پیدا ہوتے رہے ہیں اور تب سے اِنسان مرتے بھی رہے ہیں ۔ لاکھوں بلکہ کرروڑوں پیدا ہوُۓ اور اِس جہانِ فانی سے کُوچ کر گۓ ۔

آپ بھی اپنے ماں باپ کے ہاں پیدا ہُوۓ۔ لیکِن درحقیقت یہ خُدا ہے جِس نے آپ کو تخلیق کِیا ۔ اُسی نے سب کُچھ بنایا ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خالِق نے کِس قدر حیرت انگیز طریقہ سے اُس نے آپ کو اور ہر شے کو بنایا ہے ۔

آپکے ماں باپ نے آپکو ایک نام دِیا ۔ خُدا آپکا نام جانتا ہے ۔ وُہ ہر نام جانتا ہے خواہ وہ کِسی بھی زبان کا ہو ۔ وُہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے ۔ چُونکہ اُس نے ہمیں تخلیق کیا ہے وُہ ہمارے بارے سب کُچھ جانتا ہے ۔ وُہ ہم سے مُحبّت رکھتا ہے کیونکہ وُہی ہمارا مالِک ہے ۔ وُہ ہمارا آسمانی باپ ہے اور وُہ ہمارے دُنیاوی ماں باپ سے کہیں زیادہ ہماری فِکر کرتا ہے ۔

خُدا

خُدا ازل سے ہے ۔ وُہ ابد تک رہے گا ۔ جب اُس نے اپنا سانس ہم میں پھونکا تو ہم بھی ہمیشہ کے لِے ٔجینے کے اہل ہو گے ٔ ۔ نہیں ، ہمارے جِسم نہیں ، کیُونکہ وُہ تو بِلآخِر مر ہی جائیں گے ، بلکہ یہ ہماری روُح ہے جو ہمیشہ تک جیتی رہے گی ۔

کیا آپ سچّے خُدا کو جانتے ہیں ۔ شائد آپ پُوچھیں کہ وُہ کون ہے ؟ وُہ کہاں ہے ؟ کیا آپ حقیقتاً جاننا چاہتے ہیں ؟ ہاں ، یقینناً آپ جاننا چاہیں گے ۔ کہیں دِل کی گہرائی میں آپ ضرور اُسے جاننا چاہتے ہیں ۔

آپ نے تو خُدا کو کبھی نہیں دیکھا ، یا دیکھا ہے ؟ یقینناً نہیں ۔ لیکِن اِس کا مطلِب یہ نہیں کہ اُس کا کہیں وجوُد ہی نہیں۔

صِرف ایک ہی خُدا ہے ۔ کِسی اور خُدا کی گُنجائش ہی نہیں ، کیُونکہ وُہی خُداٗ واحِد ہے جو زمین و آسمان پر ہر سوُ موجود ہے ۔ وُہ ایک ہی وقت ہر جگہ موجوُد ہے ۔

خُدا کا گھر آسمان پر ہے جو اوُپر بُلندِیوں پر ایک نہائت ہی خوُبصوُرت مقام ہے ۔ لیکِن وہ اُن لوگوں کے دِلوں میں بھی رہتا ہے جو اُسکی آواز کے شِنوا ہوتے ہیں ۔

’’ مَیں خُدا کے بارے کیسے سیِکھ سکتا ہوُں ؟ ‘‘ کیا آپکے دِل میں کبھی یہ سوال آیا ہے ؟ خُدا کے پاس اِس سوال کا جواب دینے کا ایک نہائت ہی اعلیٰ منصُوبہ ہے ۔ خُدا نے آسمان سے اپنے اَکلوتے بیٹے یسُوع ؔ کو دُنیا میں بھیجا تاکہ وہ ہم پر ظاہر کر سکے کہ وہ در حقیقت کون ہے اور اُسکی کیا فِطرت ہے ؟ دراصل خُدا اور یسُوع ؔ ایک ہی ہیں ۔ ایک مُعجزہ کی بدولت خُدا کا بیٹا ایک ننھے بچہّ کی طرح پیدا ہُوا اور آدمی کی مانند بڑا ہُوا ۔ اِس کے بعد یسُوع نے ؔ تِین برس تک لوگوں کو اپنے خُدا باپ کی مُحبّت کے بارے تعلیم دی ۔ اُس نے سِکھایا کہ خُدا پاک ہے اور وُہ اپنے سامنے گُناہ کو برداشت نہیں کر سکتا ۔

لیکِن پھِر خُدا نے ہمیں ہمارے گُناہوں سے بچانے کا راستہ بنایا ۔ اُس نے بدکار لوگوں کے ہاتھوں اپنے بیٹے کو مصلُوب ہونے دیا ۔ جِس نے ہماری خاطر اپنی جان قُربان کر دی ، گویا اِس قدر وُہ ہم سے مُحبت رکھتا ہے اور اِس قدر عظیم اُسکی مُحّبت ہے ۔ وُہ پُوری دُنیا کے گُناہوں کے کفّارہ کی قُربانی بنا ، یعنی ہر اُس گُناہ کی قُربانی جو کبھی آپ نے کیا ہو یا کِسی بھی لڑکے ، لڑکی یا کِسی آدمی یا عورت نے کیا ہو ۔

لیکِن کیا یسُوع ؔ مسیح صلیب پر ہی رہے ؟ کیا وُہ اپنی قبر میں ہی رہے ؟ نہیں ، بلکہ تیِن دِنوں کے بعد وُہ ایک فاتح کی طرح قبر میں سے باہر آ گۓ ۔ اِ س کے بعد وُہ دوبارہ واپس آسمان پر چلے گۓ ۔ وہاں وُہ اِنتظار کر رہے ہیں اُس وقت کا جب خُدا اِس دُنیا کا خاتمہ کر دے گا ۔ تب وُہ سب لوگوں کے سچّے اور عادِل مُنصِف ہونگے ۔

کیا آپ کے پاس یُوحناؔ رسُول کی اِنجیل ہے ؟ اِس انجیل کا دس باب پڑہیۓ ۔ یہاں یُوحناؔ رسُول نے وُہ سب بیان کیا ہے جو یسُوعؔ مسیح نے لوگوں سے کہا ۔ جو اُنہوں نے اُس وقت لوگوں سے کہا وُہ آج بھی ہم سب کے لِۓ صادِق ہے ۔ یسُوعؔ نے کہا کہ مَیں اچھا چرواہا ہے جِس نے اپنی بیھڑوں کے لِۓ اپنی جان دے دی ۔ جو اُسکی بیھڑیں ہیں وُہ اُسکی آواز کو پہچانتی ہیں ۔ وُہ اُنہں اُنکا نام لے کر پُکارتا ہے اور وُہ اُسکی آواز سُن کر اُسکے پیچھے چلتی ہیں ۔ وُہ کبھی کِسی غیر کے پیچھے نہیں چلیں گی ۔

وُہ اجنبی ، وُہ دُوسری آواز

وُہ اجنبی کون ہے ؟ وُہ جِس سے ہمیں دوُر بھاگنا ہے ۔ ہاں ، وُہ تو ایک چور ہے ! اُسے بیھڑوں کی قظعاً فِکر نہیں ۔ وُہ جھُوٹا اور فریبی ہے ۔ اُس میں ذرا بھی سچائی نہیں ، وُہ ابلیس ہے ، وُہ ہمارا ازلی دُشمن ہے ، وُہ شیطان ہی تو ہے ۔

لیکِن پہلے وُہ خُد ا کا دُشمن ہے ۔ کبھی وُہ خُدا کے حضُور ایک اچھّا اور نیک فرِشتہ تھا ۔ لیکِن پھِر وہ مغروُر اور گھمنڈی بن گیا اور اُس

نے خُود کو خُدا کے سامنے سر بلند کرنے کی ٹھان لی ۔ وُہ خُدا کے مدِ مُقابِل اُس کے ساتھ جنگ کرنے کے لِۓ تیا ر ہو گیا َ ۔ بُہت سے

فرِشتے بھی اُس کے ساتھ مِل گۓ ۔ لیکن فتح خُدا کی ہُوئی ، کیونکہ وُہ قادرِمُطلِق ہے ۔ چُناچہ خُدا نے ابلیِس اور اُسکے ساتھی فرِشتوں کو آسمان سے نکال باہر کیا ۔ خُدا سے ابلیِس کی دُشمنی کا یہی سبب بنا اور تب سے وُہ خُدا سے نفرت کرنے لگا ۔

چُونکہ ابلیس دوبارہ کبھی خُدا کے قریب نہیں جا سکتا ، وُہ خُدا کی مخلوُق یعنی اِنسانوں کو اپنے غضب کا نِشانہ بناتا ہے ۔ چُونکہ اُس نے گُناہ کیا وُہ دوُسروں کو بھی گُناہ کرنے پر مائل کرتا ہے ۔ لیکن گُناہ دوبارہ کبھی ا ٓسمان میں داخِل نہ ہونے پاۓ گا ۔ ہاں ، البتہ ایک اور جگہ ہے جو خُدا نے شیطان اور اُسکے فرِشتوں کے لِۓ تیار کر رکھی ہے ۔ اور وُہ ہے ، جہنم ۔ جہنم جو کہ ایک نہائت اذیت ناک جگہ ہے ۔ یہ وُہ آگ ہے جو کبھی نہ بھُجے گی ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابلیس اور اُسکے پیروکار ہمیشہ کی سزا بھُگتیں گے ۔ یہ وُہ خوفناک مقام ہے جہاں خُدا کو ہمیں بھیجنا پڑے گا اگر ہم بھی ابلیس کی آواز سُنیں گے اور اُسکے پیچھے چلیں گے ۔ ابلیس نہیں چاہتا کہ ہم جہنم کے بارے سوچیں اور نہ ہی وُہ چاہتا ہے کہ ہم خُدا کے بارے سوچٰیں ۔ اِسی لِۓ وُہ ہماری توجہ خُد ا سے ہٹانا چاہتا ہے ۔ اُس کی کوشِش ہے کہ ہم خُدا کی نہیں بلکہ اُسکی آواز سُنیں ۔

کیا آپ نے خوُد اپنے اندر وُہ دوُسری آواز سُنی ہے ، کِسی غیر کی آواز ؟ کبھی وُہ ہمیں یہ یقین دِلاتی ہے کہ اُسکے پاس ہمیں دینے کے لِۓ بڑی اچھی چیزیں ہیں ۔ کبھی وُہ ہمیں یہ سوچنے پر مائل کرتی ہے کہ  ’’ مَیں دوُسروں سے بہتر ہوُں ، مَیں تو بڑا اہم ہوُں ، مَیں اور مَیں ہی سب سے پہلے ۔ مَیں تو اپنا بدلہ لے کر ہی رہوُں گا ؛ مُجھے اپنے حقوُق کے لِۓ لڑنا ہے ۔ چوری کرنا جائز ہے ، بس پکڑے نہیں جانا چاہِۓ ۔ ہر کوئی جھوُٹ بول رہا ، مَیں کیوں نہ بولوُں ؟ دِل میں بُرے خیال لانا بھی کونسی بڑی بات ہے ۔ کِسی کو کیا خبر کہ مَیں کیا سوچ رہا ہوُں ۔ گندی باتیں ، ہنسی مُزاق اور دِل بہلانے کے لِۓ جائز ہی تو ہیں ۔‘‘ یہ سب آوازیں شیطان ہی کی ہیں ۔ وُہ جھُوٹا ہے اِسی

وُہ جھُوٹا ہے اِسی لِۓ وُہ ہمیں بھی جھُوٹا بنانا چاہتا ہے ۔ وُہ چور ہے اِس لِۓ وُہ ہمیں بھی چوری چکاری پر مائل کرتا ہے ۔ وُہ قاتِل ہے اِس لِۓ وُہ ہمیں ایک دوُسرے سے نفرت کرنا سِکھاتا ہے ۔

جب آپ یہ آواز سُنتے ہیں تو کیسا محسُوس کرتے ہیں ؟ کیا یہ آواز آپکو اندر ہی اندر ۱چھی نہیں لگتی ؟ نہیں ، بلکہ یہ اندر ہی اندر آپکو نا خوُش اور بد دِل کر دیتی ہے ۔ کِیونکہ یہ آپ کو اپنی اصل شخصیّت چھُپانے پر مجبوُر کرتی ہے ۔ یہی شیطان کی خصلت ہے ۔ وُہ سب کُچھ چوری چھُپے اندھیرے میں کرنا چاہتا ہے ۔

یسُوعؔ ، چرواہے کی آواز

کیا آپ یسُوع ؔ کو جانتے ہیں ، یسُوع ؔ جو کہ اچھا چرواہا ہے ؟ کیا آپ اُسکی بھیڑ بننا چاہتے ہیں ؟ کیا آپ اُسکی آواز سے آشنا ہونا چا ہتے ہیں ؟

ہاں کیوں نہیں ؟ آپ اُسکی آواز سے آشنا ہو سکتے ہیں ؟ لیکِن پہلے آپکو اُس دوُسری آواز کو سُننا ترک کرنا ہو گا ۔

اب جب آپ خاموش ہونگے ، آپ یسُوعؔ کی حلیمی بھری یہ آواز سُنیں گے کہ اپنی پوُری زِندگی میری نذر کر دو ۔ آپ اُسے یہ کہتے ہوُۓ سُنیں گے کہ اپنے گُناہوں پر نادِم ہوں اور اُن سے توبہ کریں ۔

شائد کبھی تنہائی میں آپ نے سوچا ہو ، ’’ مَیں اپنے تمام مسائل اور سارے بوجھوں کا کیا کروُں ؟ کاش مَیں بھی ایک اچھّا اور نیک اِنسان بن سکوُں ۔ کاش مَیرے ایسے حالات ہوں کہ مَیں کبھی بھوُک اور بیماری کا شِکار نہ ہوُں ۔ مرنے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوگا ؟ ہو سکتا ہے ایسے ہی کئی اور خیالات آپکے دِل میں آتے ہوں ۔ یہی باتیں اور یہی خیال دراصل یسُوعؔ کی آواز ہیں جو آپکو بُلا رہی ہے ۔

کیا آپ کبھی کبھی افسُردہ ہوتے ہیں لیکن آپکو یہ بھی معلوُم نہیں ہوتا کہ آپ کِیوں افسُردہ ہیں ؟ یا پھِر اکیلا نہ ہونے کے باوجوُد خُود کو اکیلا محسُوس کرتے ہیں ۔ عین مُمکِن ہے کہ حقیقت میں آپ اپنے اندر خُدا کی کمی محسُوس کر رہے ہوں ، وُہ خُدا جِس نے آپ کو پیدا کیا ہے اور آپ سے پیار کرتا ہے ۔ وُہ اچھا چرواہا ہے جو اپنی کھوئی ہوئی بیھڑوں کی تلاش میں ہے ۔ وُہ مُسلسل آپکو آوازیں دے رہا ہے اور آپکی جُستجو میں ہے ۔

جب آپ اِس چرواہے کی آواز سُنیں ، اُسے جواب دیں ۔ اُسے بتائیں کہ آپ اپنے گُناہوں پر شرمِندہ ہیں ۔ اُسے بتائیں کہ آپ کیسا محسُوس کر رہے ہیں اور اُسے کہیں کہ وُہ آپ کو نجات بخشے ، یعنی اُس سے دُعا مانگیں ۔

کیا آپ نے کبھی آسمانی خُدا سے دُعا مانگی ہے ؟ نہیں کی تو اب ایسا کر یں ۔ وُہ آپ کے دِل کی بات کو سُنے گا اور سمجھے گا ۔ جِس سکوُن اور اِطمِینان کی آپکو تلاش ہے ، وُہ آپکو اُسی سے مِلے گا ۔

کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ بھی اُسکی ایک معصوُم سی بیھڑ کی طرح اُسکی آواز سُنیں ؟ وُہ تو آپ کا دوست بننا چاہتا ہے ۔ اُسے اپنی زِندگی میں آنے دیں ۔ وُہ آپکے سارے گُناہوں کا بوجھ ہٹا دے گا ۔ تب آپکو حقیقی خُوشی حاصِل ہو گی ۔ اُسکی طرح آپ بھی سب سے پیار کرنے لگیں گے اور ہر ایک کے ساتھ مُحبّت او ر رحمدِلی سے پیش آئیں گے ۔

اگرچہ مسیحی ہونے کے ناطے لوگ آپ کا مُزاق اُڑائیں گے لیکِن آپکو اِس بات کا یقین ہونا چاہِۓ کہ یسوُع ؔ آپکی حِفاظت کرے گا ۔ اور اگرچہ وُہ اجنبی آواز ، وُہ ابلیس کی آواز آپکو دوبارہ آزمائش میں ڈالنے کی کوشِش کرے گی ، آپکو اِس بات کا یقین ہونا چایِۓ کہ یسُوعؔ آپکو غالِب آنے میں مدد دے گا ۔

جب آپ اِس چرواہے کی مُحّبت بھری باہوں میں محفُوظ ہونگے تو آخِر میں وُہ آپکو اُس خُوبصُورت ، عجیب و غریب اور ابدی خُوشیوں سے بھرے آسمانی گھر میں لے جاۓ گا جہاں آپ خُدا کی حضُوری میں ہمیشہ ہمیشہ کے لِۓ رہیں گے ۔